Friday, October 11, 2013

امن کا نوبیل انعام ملالہ کو نہ مل سکا

اوسلو: (دنیا نیوز) امن کا نوبیل انعام کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کو مل گیا ، ملالہ یوسف زئی کو امن کا نوبیل انعام نہ مل سکا۔ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں امن کا نوبیل کے انعام کے لئے تقریب منعقد کی گئی۔ نوبیل کمیٹی نے نوبیل امن ایوارڈ کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم او پی سی ڈبلیو کو دیدیا۔ او پی سی ڈبلیو شام میں کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا کام کر رہی۔ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے کام کرنے والے عالمی ادارے او پی سی ڈبلیو کا تعلق نیدر لینڈ سے ہے جو 28 اپریل 1997ء میں دنیا کو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا اور اس کے رکن ممالک کی تعداد 189 ہے۔ او پی سی ڈبلیو کے 30 ماہرین ان دنوں اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے ساتھ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ خواتین کو تعلیم کا حق دلانے کے لیے کوشاں پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی اور زیادتی سے متاثرہ خواتین کی مدد کرنے والے کانگو کے ڈاکٹر ڈینس کو اس سال کے امن کے نوبیل انعام کے لیے پسندیدہ امیدواروں میں سے ایک تھیں۔ واضح رہے باضابطہ طور پر نوبیل انعام کے لیے نامزد افراد کی فہرست 50 سال تک منظرِ عام پر نہیں لائی جاتی۔ تاہم نامزدگی کرنے والے افراد اپنی مرضی سے اپنے امیدوار کا نام ظاہر کر سکتے ہیں۔ اس سال نوبیل امن انعام کے لیے ریکارڈ 259 افراد کو نامزد کیا گیا تھا جن کے ناموں کو صیغۂ راز میں رکھا گیا تھا لیکن سٹے بازوں کے نزدیک بھی ملالہ کو انعام ملنے کا امکان سب سے زیادہ تھا۔ اس سال نوبیل انعام کی رقم 1.25 ملین امریکی ڈالر تھی۔ اس انعام کے متوقع جیتنے والوں میں جمہوریہ کانگو سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ڈینس میوکیوجی بھی شامل تھے۔ وکی لیکس کو خفیہ دستاویزات فراہم کرنے والے سابق امریکی چیلسی میننگ کو بھی اس انعام کے لیے متوقع طور پر نامزد امیداروں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ دیگر امیدواروں میں وہ مصری کمپیوٹر سائنسدان بھی شامل تھے جو تعلیم چھوڑ کر عیسائی راہبہ بن گئی اور خیراتی ادارے سٹیفنز چلڈرن کی بنیاد ڈالی۔ روس سے تعلق رکھنے والے ریاضی کی سابق استاد سوینٹلانہ گاننوشینکا تھے جنھوں نے انسانی حقوق کی تنظیم سول اسسٹنس کی بنیاد ڈالی۔ اس سال نوبیل امن انعام کے امیدواروں میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن، یو ٹو میوزک بینڈ کے گلوکار بونو اور وکی لیکس کے بانی جولین اسانج بھی شامل تھے۔ جمعرات کو ملالہ یوسفزئی نے یورپی یونین کا سخاروف ہیومن رائٹس ایوارڈ دیا گیا تھا ۔ 50 ہزار یورو مالیت کا یہ ایوارڈ یورپ میں حقوقِ انسانی کا سب سے بڑا ایوارڈ مانا جاتا ہے۔ سخاروف ایوارڈ سے قبل ملالہ کو کئی عالمی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ جمہوریہ کانگو کے ڈاکٹر ڈینس میوکیوجی کو ماضی میں بھی اس انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ انھوں نے کانگو میں ہزاروں کی تعداد میں عسکریت پسندوں اور فوجیوں کے ہاتھوں ریپ ہونے والی خواتین کی مدد کے لیے ہسپتال بنایا تھا۔ ایک سال پہلے ڈاکٹر ڈینس پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ زخمی ہوئے تھے اور انھوں نے عارضی طور پر یورپ میں پناہ لی تھی۔ ماضی میں نوبیل امن جیتنے والوں میں نسل پرستی کے خلاف تحریک چلانے والے جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن مینڈیلا، امریکی صدر براک اوباما، بدھ مذہب کے پیش وا دلائی لاما اور برما میں حزبِ اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی شامل ہیں۔

No comments:

Post a Comment