حکیم اللہ محسود پر حملہ مذاکراتی کوششوں کیلئے دھچکا ؟، امریکا نے پاکستان کا موقف مسترد کر دیا، امریکا کا کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ مذاکرات پر حملہ سے کتنا اثر پڑا، یہ پاکستان سے پوچھا جائے۔واشنگٹن: (آن لائن) امریکا نے پاکستانی حکام کے ان دعوئوں کو مسترد کر دیا ہے کہ حکیم اللہ محسود پر حملہ سے مذاکرات کی کوششوں دھچکا لگا ہے اور کہا ہے کہ تحریک طالبان سے مذاکرات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے ان مذاکرات پر کتنا اثر پڑا ہے اس بارے میں پاکستان ہی سے پوچھا جائے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیدار نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی تاہم کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان اور امریکا کے سٹریٹجک مفادات مشترک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اور انسداد دہشت گردی سمیت پاکستان کے ساتھ تعلقات کے ہر پہلو پر بات چیت جاری ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خدشات دور کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کو امریکا نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔ یہ القاعدہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے اور امریکا پر حملے کی کئی بار دھمکی دے چکی ہے اور اس نے کئی واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ ترجمان نے اس امر کی تصدیق کی کہ اسلام آباد میں امریکی سفیر اولسن کو طلب کرکے ڈرون حملوں پر احتجاج کیا ہے اور احتجاجی مراسلہ دیا گیا ہے تاہم انہوں نے اس مراسلہ کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ترجمان نے کہا کہ ہمارے پاکستان سے وسیع البنیاد شراکت داری اور انسداد دہشت گردی سمیت دیگر امور پر بات چیت جاری ہے اور ہم ایک دوسرے کے معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان مل کر تشدد کا خاتمہ کر رہے ہیں تاکہ خطہ میں خوشحالی، امن اور استحکام لایا جا سکے۔
No comments:
Post a Comment